Assignment no 9
گھر پر کام کرتے ہوئے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات
ہر دور میں معاشرے کی ترقی کا دارو مدار اساتذہ کے تعلیمی اور فنی صلاحیتوں کے فروغ سے راست یا بالواسطہ طور پر وابستہ رہا ہے۔اساتذہ میں جب ذہنی جمود طاری ہوجائے اور ان میں تعلیمی و فنی صلاحیتوں کے فروغ کے راستے مسدود ہوجائیں تب نظام تعلیم بے روح اور معنویت سے عاری ہوجاتا ہے۔اساتذہ کی تعلیمی و فنی صلاحیتوں کے فروغ کے بغیرملک و قوم کا عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا بھی تقریبا ناممکن ہی نظر آتا ہے۔یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اساتذہ کے بغیر کوئی بھی قوم آج تک ترقی کا سفر طئے نہیں کر سکی ۔ نظام تعلیم کوزندہ بامقصد اور قوم و ملت کی آرزؤں کی تکمیل کا ذریعہ بنانے میں اساتذہ کے تعلیمی و فنی صلاحیتوں کے فروغ کوکلیدی حیثیت حاصل ہے۔عصری تقاضوں سے عاری اساتذہ کے ہاتھوں قوم و ملک کی جدیدتعمیر یقیناًایک امر محال نظرآتی ہے۔زمانے سے قدم ملانے کے لئے اساتذہ کا عصری تقاضوں، تعلیمی اور فنی صلاحیتوں سے آراستہ ہونا بے حد ضروری ہوتا ہے۔تعلیمی وفنی فروغ میں معاون وسائل اور مواقعوں سے بہتر استفادہ کرنے والے اساتذہ درس و تدریس اور اکتساب پراپنے گہرے نقش چھوڑتے ہیں ۔ اساتذہ میں تعلیمی اور فنی صلاحیتوں کے فروغ سے درس و تدریس اور اکتساب کومعیار اور کمال حاصل ہوتا ہے۔ اساتذہ کی تعلیمی و فنی صلاحیتوں کافروغ درس و تدریس کو نئے زاویے عطاکرنے معنویت کی ردا بخشنے اور اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے میں ایک مثالی کردار انجام دیتا ہے۔ہماراتعلیمی نظام اساتذہ کی تعلیمی اور فنی صلاحیتوں کے فروغ میں بلاشبہ کوتاہی کا شکار ہے۔ تعلیمی اور فنی صلاحیتوں کے فروغ میں محدود وسائل کا شکوہ کرنے سے بہتر ہے کہ اساتذہ ازخود اپنی تدریسی اور فنی صلاحیتوں کے فروغ کے وسیلے اور سامان تلاش کر یں۔اساتذہ کی یہ ایک ادنیٰ سی کوشش نہ صرف ان کے تعلیمی اور فنی صلاحیتوں کے فروغ کا باعث بنے گی بلکہ ملک و قوم کی ترقی کا دھارا بھی بدل دے گی۔کسی بھی قوم کا معیار اس کے ملک کے اساتذہ سے بلند نہیں ہوتا ہے۔اسی لئے اساتذہ کو قومی ترقی کا ایک اساسی عنصر کہا گیا ہے۔ تعلیمی اور فنی صلاحیتوں کے فروغ میں اساتذہ کی مسلسل کوشش اور اپنے پیشے سے کبھی نہ ختم ہونے والی دلچسپی نہایت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ملک وقوم کو خوشحالی سے ہمکنار کرنے کے لئے نظام تعلیم کوایسے راستے اختیار کرنے کی اشد ضرورت ہے جو اساتذہ کی تدریسی اور فنی صلاحیتوں کے فروغ اور ان کے پیشہ وارانہ ترقی میں معاون ومددگار ثابت ہوں۔اساتذہ سے بہتر خدمات کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ ان کی مسلسل رہبری ،رہنمائی اور ان کی تعلیمی و فنی صلاحیتوں کو فروغ دیا جائے تاکہ قوم و ملک کی تعمیر میں وہ اپنا گرانقدر کردار ادا کر سکیں۔اساتذہ کی خدمات کو موثر اور کامیابی سے ہمکنا ر کرنے کے لئے ان کو تعلیمی ،فنی اور عملی تربیت کی جانب مائل کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ تاکہ وہ جدید تعلیمی نظریات اور ترقی یافتہ دنیا کے پیچیدہ مسائل سے آگہی حاصل کرتے ہوئے نئی نسل کو ان چیالنجس کا سامنا کرنے کے لئے تیار کرسکیں۔عصری آگہی و عصری معلومات سے وابستگی پیدا کرنے کے لئے اساتذہ کی تعلیمی ،فنی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو فروغ دینا بہت ضروری ہوتا ہے۔ارباب نظام تعلیم اساتذہ میں عصری تعلیمی نظریات کے فروغ میں تساہل سے کام نہ لیں اور ان میں تعلیمی و فنی صلاحیتوں کے فروغ کا جذبہ پیدا کریں۔ گزرتے وقت کے ساتھ اساتذہ میں محسوس یا غیر محسوس طور پر درس و تدریس سے اکتاہٹ کا احساس پایا جانا ایک عام بات ہے۔ اسکولوں میں درس و تدریس کے بڑھتے ہوئے کام کے بوجھ اور دباؤ کی شکایت بھی اساتذہ میں بے چینی کا سبب بنتی جارہی ہے۔محنت و دیانت داری سے خدمات انجام دینے کے باوجود ان کو وہ ستائش اور تعریف حاصل نہیں ہوپاتی جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔ان کے مشاہیرہ میں اضافہ نہیں ہورہا ہے ۔ان کی ضروریات کا خیال نہیں رکھا جاتاوغیر ہ وغیرہ ۔اگر ان تمام مسائل کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اساتذہ نے اپنی شخصیت کے معیار اور اپنے فن کو بلند کرنے میں تساہل سے کام لیا ۔اپنی تعلیمی و فنی صلاحیتوں کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں بنایا۔ اپنے پیشے سے جذباتی مطابقت کے فقدان کے سبب درس و تدریس میں کوئی خاص اور نمایا ں کام انجام دینے سے خو د کو عاجز رکھا۔اساتذہ اپنا مقام مرتبہ اورعظمت کی برقراری کے لئے اپنی تعلیمی ،فنی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں بہتری لائیں اور ان کو فروغ دینے کی ہر وقت کوشش کریں۔ ارباب مجاز اساتذہ کو پیشہ درس وتدریس سے ہم آہنگ کرنے اور ان میں جوش و ولولہ بھرنے ،جذبے درس و تدریس کے ٹمٹماتے دیوں کو روشنی عطاکرنے کے لئے اساتذہ کیتعلیمی و فنی صلاحیتوں کے فروغ کو ممکن بنائیں۔ اساتذہ اپنی تعلیمی ،فنی اور پیشہ وارانہ ترقی میں لاپرواہی سے کام نہ لیں۔ اساتذہ اپنے عزم و یقین سے کام لے کر نہ صرف پیشہ وارنہ ترقی کی بلندیوں کو سر کرسکتے ہیں بلکہ درس و تدریس کو بھی دلچسپ اور موثر بنا دیتے ہیں۔ماہر تعلیم لنڈا شولاوے(Linda Sholaway)کے مطابق ’’شخصی اور پیشہ وارانہ نشوونما و ترقی ایک دوسرے سے باہم مربوط ہوتی ہے